لائیو, ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے پیر سے’بہترین کوششیں‘ شروع کرنے کا اعلان
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔
خلاصہ
مذاکرات میں تسلسل کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر
سیستان بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کے قافلے پر حملے میں راسک شہر کے کمانڈر زخمی
ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب
1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کویت کی ماہانہ تیل برآمدات صفر بیرل رہیں: رپورت
جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ
خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا
ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لوں گا، تاہم اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتا: ٹرمپ
لائیو کوریج
صدر ٹرمپ کا یورپی گاڑیوں پر ٹیرف 25 فیصد تک بڑھانے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی یونین سے درآمد کی
جانے والی گاڑیوں اور ٹرکوں پر عائد محصولات میں اضافہ کرتے ہوئے انھیں 25 فیصد تک
بڑھانے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے برسلز کے ساتھ تجارتی کشیدگی میں نمایاں اضافہ
ہو گیا ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک
بیان میں یورپی یونین پر الزام عائد کیا کہ وہ ’ہم سے طے شدہ مکمل تجارتی معاہدے
کی پاسداری نہیں کر رہی،‘ تاہم انھوں نے اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔
جمعے کے روز اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے یہ
اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ۔۔۔ اگلے ہفتے میں یورپی یونین سے آنے والی گاڑیوں
اور ٹرکوں پر محصولات میں اضافہ کروں گا۔‘
یورپی کمیشن نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم
یورپی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام آپشنز کھلے رکھیں گے۔‘
کمیشن کے مطابق یورپی یونین اپنے وعدوں پر عمل کر
رہی ہے تاہم وہ امریکہ سے اس کے وعدوں کے حوالے سے ’وضاحت‘ بھی طلب کر رہی ہے۔
آٹو موبائل کے شعبے کو ہدف بنا کر ٹرمپ نے ایک
نہایت حساس شعبے کا انتخاب کیا ہے کیونکہ گاڑیوں کی صنعت یورپ کی معیشت کا ایک بڑا
حصہ ہے۔
یہ اقدام اس معاہدے کے ایک سال سے بھی کم عرصے بعد
سامنے آیا ہے جو یورپی یونین اور امریکہ کے درمیان سکاٹ لینڈ میں ٹرمپ کے ٹرن بیری
گالف کورس پر طے پایا تھا، جس کے تحت زیادہ تر یورپی اشیا پر محصولات 15 فیصد مقرر
کیے گئے تھے۔
یہ معاہدہ یورپی یونین کے لیے اس 30 فیصد ٹیرف سے
عارضی ریلیف کا باعث بنا تھا جسے ٹرمپ نے اپنے وسیع پیمانے پر ’لبریشن ڈے‘ محصولات
کے تحت نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اس کے بدلے میں یورپ نے امریکہ میں سرمایہ کاری
اور امریکی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے متوقع تبدیلیوں پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
مختلف ایرانی شخصیات معاہدے کے لیے رابطہ کر رہی ہیں، واشنگٹن مذاکرات کے لیے مناسب فریق کی نشاندہی کر رہا ہے: ٹرمپ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں مختلف
ایرانی شخصیات کی جانب سے رابطہ کیا جا رہا ہے جو معاہدے کی پیشکش کر رہے ہیں،
جبکہ واشنگٹن مناسب فریق کی نشاندہی کے لیے کام کر رہا ہے جس سے مذاکرات کیے جا
سکیں۔
فلوریڈا میں ایک خطاب کے دوران ٹرمپ نے بتایا کہ ’آبنائے
ہرمز کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’ایرانیوں نے اسے برسوں سے ایک ہتھیار کے طور پر
استعمال کیا اور مزید کہا کہ ان کا ملک ’ایرانی جہازوں کو ان کی جگہوں پر واپس لے
آیا ہے اور آبنائے ہرمز کو دباؤ ڈالنے کے آلے کے طور پر استعمال ہونے سے روک دیا
ہے۔‘
ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب ’فضائی دفاع اور ریڈار
نظام سے محروم ہو چکا ہے اور اس کی عسکری صلاحیتیں مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’ایران میں جاری صورتحال ’اعلیٰ
قیادت کے پہلے اور دوسرے درجے کے غائب ہونے کے بعد ایک حقیقی نظام کی تبدیلی‘ کی
عکاسی کرتی ہے۔‘
انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ’82 فیصد میزائل
تنصیبات کو غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے اور ایران میں نئے میزائلوں کی تیاری کی
صلاحیت کو بھی تقریباً 85 فیصد تباہ کر دیا گیا ہے۔‘
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’159 ایرانی بحری جہاز اب
سمندر کی تہہ میں جا چکے ہیں۔‘
ٹرمپ نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک ’ایران کو
جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا کیونکہ یہ اسرائیل، یورپ اور ممکنہ
طور پر امریکہ کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک ’ایران
میں بہترین کام کر رہا ہے۔‘
امریکہ کا جرمنی سے اپنے پانچ ہزار فوجی واپس بلانے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران جنگ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز کے درمیان اختلافات کے بعد امریکی محکمۂ دفاع نے جرمنی سے پانچ ہزار فوجیوں کے انخلا کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
یہ فیصلہ اس بیان کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جس میں صدر ٹرمپ نے چانسلر مرز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ مرز نے یہ تاثر دیا تھا کہ ایران کے مذاکرات کاروں نے امریکہ کی ’تضحیک‘ کی ہے۔
جمعرات کو سوشل میڈیا پر جاری سلسلہ وار پوسٹس میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ فریڈرک مرز ’انتہائی ناقص کارکردگی‘ دکھا رہے ہیں اور انھیں ’ہر طرح کے مسائل‘ کا سامنا ہے جن میں امیگریشن اور توانائی بھی شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل اٹلی اور سپین سے بھی امریکی فوج نکالنے کی تجویز دے چکے ہیں۔
جرمنی میں امریکی فوجی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ گذشتہ دسمبر تک ملک بھر کے مختلف فوجی اڈوں پر 36 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات تھے۔
پینٹاگون کے ترجمان شان پارنیل نے ایک بیان میں کہا کہ یہ حکم وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کی جانب سے دیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ فیصلہ یورپ میں امریکی افواج کی تعیناتی سے متعلق محکمے کے جامع جائزے کے بعد کیا گیا ہے اور اس میں خطے کی ضروریات اور زمینی حالات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہمیں توقع ہے کہ یہ انخلا آئندہ چھ سے 12 ماہ کے دوران مکمل ہو جائے گا۔‘
نیٹو اتحاد کے دیرینہ ناقد رہنے والے امریکی صدر ٹرمپ حالیہ دنوں کے دوران نیٹو اتحاد کے ممالک پر شدید تنقید کر رہے ہیں کیونکہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی کارروائیوں میں شرکت سے انکار کرتے ہیں۔
ایران کے ساتھ جنگ بندی کے بعد کانگریس کی منظوری درکار نہیں: ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کانگریس کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کے باعث ایران کے خلاف کارروائیاں ختم ہو چکی ہیں، لہذا انھیں جنگ جاری رکھنے کے لیے قانون سازوں کی اجازت درکار نہیں ہے۔
صدر ٹرمپ نے کانگریس کی قیادت کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ’سات اپریل 2026 کے بعد سے امریکہ کی مسلح افواج اور ایران کے درمیان فائرنگ کا کوئی تبادلہ نہیں ہوا۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہیں۔‘
یہ خط اس اعلان کے 60ویں دن آیا ہے کہ جب صدر ٹرمپ نے باضابطہ طور پر کانگریس کو ایران کے خلاف حملوں سے آگاہ کیا تھا۔
امریکی قانون کے تحت ایسے اعلان کے بعد صدر کو 60 دن کے اندر ’امریکی مسلح افواج کے کسی بھی استعمال کو ختم کرنا ہوتا ہے جب تک کہ کانگریس اس کے تسلسل کی اجازت نہ دے۔‘
جمعے کے روز کانگریس کے رہنماؤں کو لکھے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں پہلے اور اب بھی اپنی آئینی ذمہ داریوں کے تحت امریکہ کی خارجہ پالیسی اور بطور کمانڈر اِن چیف اور چیف ایگزیکٹو اپنے اختیارات کے مطابق امریکی مسلح افواج کو ہدایات دیتا رہوں گا۔‘
امریکہ کا متعلقہ قانون، جو کئی دہائیوں پرانا ’وار پاورز ریزولیوشن‘ ہے، صدر پر یہ لازم کرتا ہے کہ وہ جنگی صورتحال میں امریکی افواج کے استعمال کے ’60 دنوں‘ کے اندر بعض تقاضے پورے کریں۔
اس قانون کے تحت صدر کو افواج کے استعمال کو ختم کرنا ہوتا ہے جب تک کہ کانگریس باضابطہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو زیادہ سے زیادہ 30 دن کی توسیع نہ دے تاکہ فوجیوں کی ’فوری واپسی‘ ممکن بنائی جا سکے۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جمعرات کو کانگریس کی سماعت کے دوران یہ موقف بھی اختیار کیا کہ اس ڈیڈ لائن کی گھڑی رُک چکی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’اس وقت ہم جنگ بندی کی حالت میں ہیں اور ہماری سمجھ کے مطابق جنگ بندی میں 60 دن کی گھڑی تھم جاتی ہے۔‘
اس پر سوال کرنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر ٹِم کین نے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ قانون اس کی تائید کرتا ہے۔‘
یہ قانون 1973 میں اس وقت کے صدر رچرڈ نکسن کی ویتنام جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا۔
قانون سازوں کو اس بارے میں بڑھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ آیا وہ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اس بات پر ووٹنگ کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ آیا اس جنگ کو باضابطہ منظوری دی جانی چاہیے۔
بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیدار اس حوالے سے کانگریس کے ارکان سے بات چیت کر رہے ہیں۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں ڈیموکریٹس کی قیادت میں صدر ٹرمپ کو ایران کے معاملے پر محدود کرنے کی کوششیں بارہا ناکام ہو چکی ہیں۔
اکثر ریپبلکنز نے ان کوششوں کی مخالفت کی ہے۔ تاہم کچھ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ 60 دن کی مدت پوری ہونے کے بعد اپنے موقف پر نظرِ ثانی کر سکتے ہیں۔
جنگ بندی کے باوجود دونوں فریق اب تک طویل المدتی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔ ایرانی میڈیا نے جمعے کے روز تہران کی جانب سے پاکستان کو بھیجی گئی ایک نئی تجویز کی اطلاع دی ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی ایک تجویز پاکستانی ثالثوں کو ارسال کی گئی ہے۔
خبر رساں ایجنسی نے تجویز کی تفصیلات شائع نہیں کیں اور یہ واضح نہیں کہ آیا یہ تجویز امریکہ تک پہنچی ہے یا نہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعے کی سہ پہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ’ہم نے ابھی ایران کے ساتھ ایک بات چیت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ لیکن میں یہ کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ طے کرنا اس حد تک مشکل رہا ہے کیونکہ ایرانی قیادت ’بہت کنفیوژن‘ کا شکار ہے، خاص طور پر اس کے کئی اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے مارے جانے کے بعد۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ جمعرات کو انھیں امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے مختلف آپشنز پر بریف کیا گیا جن میں ’انھیں بُری طرح کچل دینا اور ہمیشہ کے لیے معاملہ ختم کر دینا‘ بھی شامل تھا اور ’معاہدہ کرنا‘ بھی۔
ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے بھجوائی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہوں: صدر ٹرمپ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کی جانب سے مذاکرات کے لیے بھجوائی گئی نئی تجاویز سے مطمئن نہیں ہیں۔
جمعے کو وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، لیکن میں اس کے لیے ان کی تجاویز سے مطمئن نہیں ہوں، اب دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے۔
امریکی صدر نے ایرانی تجاویز کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم اُن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ابھی ایران کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن میں یہ کہوں گا کہ میں خوش نہیں ہوں۔ انھیں صحیح ڈیل کرنی ہوگی۔ اس وقت میں اس سے مطمئن نہیں ہوں جو وہ پیش کر رہے ہیں۔‘
صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم بات چیت کے لیے سب کچھ کر رہے ہیں۔ ٹیلی فون پر بھی بات کر رہے ہیں، اُنھوں (ایران) نے کچھ قدم آگے بڑھائے ہیں، لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ وہ معاہدے تک پہنچ پائیں گے۔
آبنائے ہرمز عبور کرنے کے عوض ایران کو فیس دینے والی شپنگ کمپنی پر پابندی لگائیں گے: امریکہ کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی شپنگ کمپنی نے آبنائے ہرمز عبور کرنے کے عوض ایران کو فیس ادا کی تو اس پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
جمعے کو امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ آبنائے کے ذریعے نیوی گیشن کے لیے ایرانی خطرات اور اس کی جانب سے اسے عبور کرنے کے لیے فیس کے مطالبے سے آگاہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی جیسی تنظیموں کو عطیات دینے والے اداروں پر بھی پابندیاں لگائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ تہران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کی تجاویز کے ایک حصے کے طور پر آبنائے عبور کرنے والے بحری جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
’ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے:‘ امریکہ کا نئی ایرانی تجاویز پر ردِعمل
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وائٹ ہاؤس نے ایران کی جانب سے پاکستان کے ذریعے بھجوائی گئی نئی تجاویز پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرے گا۔
بی بی سی عربی کے مطابق وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے رائٹرز کو بتایا کہ ’ہم نجی سفارتی بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کرتے ہیں۔‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور مختصر اور طویل مدت میں امریکہ کی قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
امریکہ نے مزید چھ ایرانی شہریوں، 21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پر پابندی لگا دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی محکمہ خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مزید ایرانی افراد، کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پابندی لگا دی ہے۔
محکمہ خزانہ کے مطابق چھ افراد، 21 کمپنیوں اور ایک بحری جہاز پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ چین کی بعض کمپنیوں اور شخصیات پر بھی پابندیاں لگائی گئی ہیں، تاہم تاحال اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی وزیر خارجہ کا سعودی عرب سمیت چھ ممالک کے وزرائے خارجہ سے رابطہ
،تصویر کا ذریعہEPA/Shutterstock
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی عرب، مصر، ترکی، قطر، عراق اور آذربائیجان کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا ہے۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ’ارنا‘ کے مطابق وزیرِ خارجہ نے ان ممالک کے وزرائے خارجہ کو علاقائی پیش رفت اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایران کے موقف سے آگاہ کیا۔
عباس عراقچی نے جمعے کو ہی یورپی یونین کے خارجہ امور اور سلامتی پالیسی کی نمائندہ کاجا کالس سے علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کی نئی تجویز پاکستان کو بھیج دی: ایرانی میڈیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے (ایرنا) کے مطابق ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے متعلق تازہ ترین تجویز پاکستان کو بھیج دی ہے۔
تہران کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایران نے ثالثی کرنے والے پاکستان کو یہ تجویز جمعرات کے روز بھیجی۔
یاد رہے کہ پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اسلام آباد نے تہران اور واشنگٹن کے وفود کے درمیان مذاکرات کے ایک دور کی میزبانی کی تھی تاہم بہت سی کوششوں کے بعد مذاکرات کا دوسرا دور ابھی تک نہیں ہو سکا۔
ایران کے حالیہ بیان سے قبل ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کے لیے تیار ہیں تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔‘
’جنگ سے امریکہ کو اب تک 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا‘: ایرانی وزیر خارجہ کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی محکمہ دفاع پر جنگ کی اصل قیمت کے بارے میں رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اعلان کردہ اعداد و شمار حقیقت کی عکاسی نہیں کرتے۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں عراقچی نے کہا کہ ’پینٹاگون جھوٹ بول رہا ہے، نیتن یاہو کے جوئے کی وجہ سے امریکہ کو اب تک تقریباً 100 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کے بالواسطہ اخراجات ’بہت زیادہ‘ ہیں، ہر امریکی خاندان کا ماہانہ خرچہ 500 ڈالر کے لگ بھگ ہے جو تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ہمیشہ ’اسرائیل فرسٹ‘ کا مطلب یہ ہے کہ امریکہ اخر میں آتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
’آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا‘: یو اے ای صدارتی مشیر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور محمد قرقاش نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
ایکس پر اپنے پیغام میں انھوں نے لکھا کہ ’آبنائے ہرمز پر جاری بحث میں، اجتماعی بین الاقوامی مرضی اور بین الاقوامی قانون کی دفعات، اس اہم راستے کے ذریعے جہاز رانی کی بنیادی ضامن کے طور پر ابھرتی ہیں، جو جنگ کے بعد کے مرحلے میں خطے اور عالمی معیشت کے استحکام کے لیے ہیں۔‘
محمد قرقاش نے یہ بھی کہا کہ ’ایران کی جانب سے اپنے پڑوسیوں کے خلاف جارحیت کے بعد کسی بھی یکطرفہ ایرانی انتظامات پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔‘
مذاکرات کو مسترد نہیں کیا لیکن ہم ڈکٹیشن قبول نہیں کرتے: چیف جسٹس ایران
ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسن عجی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے مذاکرات سے فرار اختیار نہیں کی اور نہ ہی وہ اس سے خوفزدہ ہیں۔
اپنے بیان میں غلام حسین محسن عجی نے کہا کہ مذاکرات کا مطلب یہ نہیں کہ دھمکیوں کے ذریعے جو حکم دیا جائے یا مسلط کیا جائے، ہم اسے قبول کر لیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’دشمن جو اہداف جنگ کے ذریعے حاصل نہیں کر سکا، وہ سفارت کاری کے ذریعے حاصل نہیں ہوں گے کیونکہ ہم سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘
مشرق وسطیٰ میں بحران: روس پرامن حل کے حصول کے لیے سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم
جنیوا میں روس کے مستقل نمائندے کا کہنا ہے کہ 29 اپریل کو امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ فون کال میں صدر پوتن نے تصدیق کی کہ روس مشرق وسطیٰ میں بحران کے پرامن حل کے حصول کے لیے سفارتی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
میخائل الیانوف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ صدر پوتن نے ایرانی جوہری پروگرام پر اختلافات کو دور کرنے میں مدد کے لیے کئی تجاویز بھی پیش کیں۔
بیان کے مطابق ’اس مقصد کے لیے ایرانی نمائندوں، خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ بھی فعال رابطے جاری رہیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ملک میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیا: وفاقی وزیر توانائی کا دعویٰ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری کا کہنا ہے کہ ملک میں بجلی کی لوڈ مینجمنٹ کا خاتمہ کر دیا گیا۔
جمعے کے روز اپنے ایک ویڈیو پیغام میں وزیر توانائی نے کہا کہ حالیہ دنوں میں گیس کی کمی کے باعث محدود وقت کے لیے لوڈ شیڈنگ کرنا پڑی تاہم حکومت نے ذمہ دارانہ فیصلے کرتے ہوئے مہنگی بجلی سے عوام کو بچانے کو ترجیح دی۔
وزیر توانائی نے یہ بھی بتایا کہ یہ لوڈ شیڈنگ کسی کوتاہی، کسی نظام کے فعال نہ ہونے یا بجلی کی پیداوار کی صلاحیت، نہ رکھنے کی وجہ سے نہیں بلکہ بجلی پیدا کرنے کے لیے جو گیس چاہیے، وہ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے موصول نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہی تھی۔
اویس احمد خان لغاری نے یہ بھی بتایا کہ نظام کی بہتری کے لیے بروقت اقدامات کیے گئے ہیں اور پن بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی ’صحت بہترین‘ ہے: سپریم لیڈر دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایران میں سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے کہا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی ’صحت بہترین‘ ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔
بین الاقوامی امور کے نائب محسن قمی نے کہا ہے کہ ’دشمن ان کی صحت کے بارے میں افواہیں پھیلا کر ہمیں رد عمل پر مجبور کرنا چاہتا ہے اور اس ردعمل کو اپنی سازشوں کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے۔‘
واضح رہے کہ جب سے مجتبیٰ خامنہ ای برسراقتدار آئے ہیں، ان کی کوئی ویڈیو یا آڈیو جاری نہیں کی گئی اور میڈیا نے صرف ان سے منسوب تحریری پیغامات ہی شائع کیے ہیں۔
ایران جنگ کے باعث اربوں لوگوں کو خوراک کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کھاد بنانے والی کمپنی کے سربراہ کا انتباہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دنیا میں کھاد تیار کرنے والی سب سے بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ایران میں جنگ کے باعث کھاد اور اس کے اہم اجزا کی ترسیل میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر ہر ہفتے تقریباً دس ارب افراد کے لیے ایک وقت کی خوراک جتنی غذائی قلت پیدا ہو سکتی ہے۔
یارا کمپنی کے چیف ایگزیکٹو سوین ٹورے ہولسیتر نے بی بی سی کو بتایا کہ خلیجی خطے میں جاری لڑائی جس کے باعث آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی متاثر ہوئی ہے عالمی غذائی پیداوار کے لیے خطرے کا باعث بن رہی ہے۔
انھوں نے خبردار کیا کہ کھاد کے کم استعمال کے باعث فصلوں کی پیداوار میں کمی آ سکتی ہے جس کے نتیجے میں خوراک کے لیے ممالک کے درمیان مسابقتی بولی کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
ان کے مطابق اس کا سب سے زیادہ اثر غریب ترین ممالک پر پڑے گا۔
سوین ٹورے ہولسیتر نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ قیمتوں کی جنگ کے اثرات پر سنجیدگی سے غور کریں کیونکہ اس کا بوجھ دیگر ممالک کے ’سب سے زیادہ کمزور‘ طبقات پر پڑ سکتا ہے۔
لندن میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملہ کرنے والے شخص پر فردِ جرم عائد
میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق شمالی لندن کے علاقے گولڈرز گرین میں دو یہودیوں پر چاقو سے حملے کرنے کے واقعے میں عیسیٰ سلیمان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
45 سالہ عیسیٰ سلیمان پر بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کے سلسلے میں اقدامِ قتل کی دو دفعات اور عوامی مقام پر تیز دھار ہتھیار رکھنے کی ایک دفعہ کے تحت فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ اسی دن اس سے قبل ساؤتھوَرک کے علاقے گریٹ ڈوور سٹریٹ میں پیش آنے والے ایک علیحدہ واقعے کے حوالے سے بھی ان پر اقدامِ قتل کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
اس واقعے کے بعد جمعرات کو برطانیہ میں دہشت گردی کے خطرے کی سطح بڑھا کر ’شدید‘ کر دیا گیا ہے۔
گذشتہ روز برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹامر کا کہنا تھا کہ ملک میں یہود مخالف حملوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی لوگ اب ’اپنی شناخت ظاہر کرنے سے خوفزدہ ہیں‘، انھیں یہ خوف لاحق ہے کہ وہ اپنی عبادت گاہ یا یونیورسٹی جائیں یا نہ جائیں اور اپنے بچوں کو سکول بھیجیں یا نہیں اور اپنے ساتھیوں کو اپنی شناخت بتائیں یا نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کی حکومت ’نفرت پھیلانے والوں کو‘ ملک میں داخل ہونے سے روکے گی اور انھیں یونیورسٹی کیمپسز، سڑکوں اور کمیونٹیز سے دور رکھا جائے گا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ہی باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اسماعیل بقائی
،تصویر کا ذریعہReuters
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بات چیت میں پاکستان باقاعدہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’اس معاملے میں بہت سے ممالک مدد کے لیے تیار ہیں، تاہم مذاکرات میں پاکستان ہی باضابطہ ثالث ہے۔‘
بی بی سی فارسی کے مطابق انھوں نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو کے دوران کہا ہے کہ اگر مذاکرات کے انعقاد کا فیصلہ ہوتا ہے تو ہم اس بارے میں باضابطہ طور پر سب کو مطلع کریں گے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے حالیہ دورۂ روس اور صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات کا حوالہ دیتے ہوئے اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ سٹریٹجک پارٹنرشپ معاہدے کے تحت ایران اور روس کے درمیان سیاسی، سکیورٹی اور معاشی شعبوں میں وسیع تعاون موجود ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایران مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کر کے اپنے مؤقف کی وضاحت کر رہا ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ روس اور چین کے ساتھ اس سفارتی تعاون کے نتیجے میں ایران اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ان کے بقول ’خطے کے بعض ممالک کی شرپسندانہ کارروائیوں‘ پر قابو پانے میں کامیاب رہا ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے نتیجے میں لڑائی ختم ہو چکی ہے، ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ
ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینئیر عہدیدار نے جمعرات کے روز دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل کے اوائل میں ہونے والی جنگ بندی کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی ختم ہو چکی ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وار پاورز سے متعلق کانگریس کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہو رہی ہے۔
صدر ٹرمپ کے پاس جمعے تک کا وقت ہے کہ وہ یا تو ایران کے ساتھ جنگ ختم کریں یا پھر اسے جاری رکھنے کے لیے کانگریس سے رجوع کریں اور اس جنگ کی وجوہات پیش کریں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اس عہدیدار نے انتظامیہ کے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: ’وار پاورز ایکٹ کے حوالے سے 28 فروری کو شروع ہونے والی لڑائی ختم ہو چکی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا ہے کہ تین ہفتے قبل ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکی اور ایرانی مسلح افواج کے درمیان کسی قسم کی لڑائی نہیں ہوئی ہے۔
1973 کے قانون کے تحت صدر کو یہ اجازت حاصل ہے کہ وہ کانگریس سے اجازت حاصل کیے بغیر 60 دن تک فوجی کارروائی جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم اس کے بعد یا تو اسے ختم کرنا ہو گا یا پھر مسلح افواج کی سلامتی کے لیے ’فوری فوجی ضرورت‘ کی بنیاد پر کانگریس سے اجازت یا 30 دن کی توسیع طلب کرنا ہو گی۔