لائیو, ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے پیر سے’بہترین کوششیں‘ شروع کرنے کا اعلان

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

خلاصہ

  • مذاکرات میں تسلسل کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر
  • سیستان بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کے قافلے پر حملے میں راسک شہر کے کمانڈر زخمی
  • ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب
  • 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کویت کی ماہانہ تیل برآمدات صفر بیرل رہیں: رپورت
  • جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ
  • خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا
  • ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لوں گا، تاہم اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتا: ٹرمپ

لائیو کوریج

  1. ٹرمپ کا آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے پیر سے’بہترین کوششوں‘ کے آغاز کا اعلان

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کی صبح سے آبنائے ہرمز میں پھنسے جہازوں کو آزاد کرانے کی کوشش شروع کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی طرح مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

    سوشل میڈیا پوسٹ پر انھوں نے کہا کہ یہ عمل، جسے ’پروجیکٹ فریڈم‘ کا نام دیا گیا ہے، پیر کی صبح سے شروع ہوگا۔

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اُن کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت نکالنے میں مدد فراہم کرے۔ یہ وہ ممالک ہیں جن کا مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع سے کوئی تعلق نہیں۔

    ٹروتھ سوشل

    ،تصویر کا ذریعہ@realDonaldTrump

    امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر بتایا کہ ایران، مشرقِ وسطیٰ اور خود امریکہ کے مفاد میں اِن ممالک کو آگاہ کر دیا گیا ہے کہ امریکہ اُن کے جہازوں کو محدود آبی گزرگاہوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے میں رہنمائی فراہم کرے گا تاکہ وہ آزادانہ طور پر اپنا کاروبار جاری رکھ سکیں۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق انھوں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو مطلع کریں کہ امریکہ آبنائے ہرمز سے جہازوں اور اُن کے عملے کی محفوظ روانگی کے لیے ’بہترین کوششیں‘ کرے گا۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق متعلقہ ممالک نے بتایا ہے کہ یہ جہاز اُس وقت تک علاقے میں واپس نہیں آئیں گے جب تک اسے جہاز رانی کے لیے محفوظ قرار نہیں دیا جاتا۔

    ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت‘ بات چیت جاری: ٹرمپ

    امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انھیں اس بات کا علم ہے کہ ان کے نمائندے ایران کے ساتھ ’انتہائی مثبت‘ بات چیت کر رہے ہیں، اور یہ مذاکرات سب کے لیے کسی مثبت پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔

    صدر ٹرمپ کے بیان کے مطابق جہازوں کی یہ نقل و حرکت اُن افراد، کمپنیوں اور ممالک کی مدد کے لیے ہے جنھوں نے ’’بالکل کوئی غلط کام نہیں کیا‘‘ اور جو اس صورتحال میں محض حالات کا شکار ہیں۔ انہوں نے اس اقدام کو امریکہ، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور خصوصاً ایران کی جانب سے ایک ’انسانی ہمدردی‘ کا قدم قرار دیا۔

    سوشل میڈیا پر جاری ٹرمپ بیان کے مطابق یہ تمام جہاز اُن خطوں سے تعلق رکھتے ہیں جو اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں جاری صورتحال میں کسی بھی طور ملوث نہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کئی جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری سامان کی کمی ہے جو بڑے عملے کے لیے صحت مند اور صاف ستھرے ماحول میں جہاز پر قیام کے لیے لازم ہے۔

    صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام گزشتہ کئی ماہ کے دوران شدید تنازع میں الجھے فریقوں کی جانب سے خیرسگالی کے اظہار میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

    امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر کسی بھی طرح اس انسانی ہمدردی کے عمل میں مداخلت کی گئی تو ’بدقسمتی سے‘ اس سے طاقت کے ذریعے نمٹا جائے گا۔

  2. ایران کے قریب کارگو ٹینکر پر چھوٹی کشتیوں کے حملے کی اطلاعات:برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز

    آبنائے ہرمز

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    برطانیہ کے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی ہے کہ اتوار کے روز آبنائے ہرمز میں ایک کارگو جہاز پر کئی چھوٹی کشتیوں نے حملہ کیا ہے۔

    یو کے ایم ٹی اور کے مطابق ایرانی بندرگاہ سرک کے مغرب میں تقریباً 11 ناٹیکل میل کے فاصلے پر شمال کی طرف سفر کرتے ہوئے اس کارگو پر حملے کی خبر موصول ہوئی ہے۔

    ایجنسی کے مطابق عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور ماحولیاتی اثرات کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

  3. کوئٹہ میں عالمی یوم آزادی صحافت پر صحافیوں کی ریلی، ’بلوچستان میں پابندیوں کی وجہ سے واقعات کو رپورٹ کرنا ممکن نہیں رہا‘, محمد کاظم، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کوئٹہ

    عالمی یوم آزادی صحافت

    بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں عالمی یوم آزادی صحافت کی مناسبت سے اتوار کو صحافیوں نے مظاہرہ کیا۔

    پریس کلب کے باہر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام مظاہرے میں صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں نے شرکت کی۔

    مظاہرے کے شرکا نے خطاب کے دوران کہا کہ بلوچستان میں پابندیوں کی وجہ سے واقعات کو رپورٹ کرنا ممکن نہیں رہا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صحافی سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار ہیں جس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں صحافیوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا گیا۔

    مقررین نے اس رائے کا اظہار کیا کہ مارشل لاء حکومتوں کے مقابلے میں جمہوریت کی دعویدار حکومت میں صحافت پر زیادہ پابندیاں عائد ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ جیسے کالا قانون نافذ کرکے آزادی صحافت کے گرد شکنجے کو مزید کس لیا گیا۔

    مظاہرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ ’آذادی صحافت پر پابندیوں کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ کوئٹہ میں ٹی وی چینلز کے بیورو آفسز کو بند نہ کیا جائے اور جن ٹی وی چینلز کے دفاتر بند کیے گئے ہیں ان کو فوری طور پر کھولا جائے۔‘

    مظاہرے کے شرکاء نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے روزگار کو تحفظ فراہم کرنے کے علاوہ ان کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی بنائی جائے۔

  4. نئے مجوزہ قانون کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی: ایرانی نائب سپیکر

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کی پارلیمنٹ کے نائب سپیکر علی نیکزاد کا کہنا ہے کہ پارلیمان سے ایک ایسا قانون منظور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس کے تحت امریکی اور اسرائیلی جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

    علی نیکزاد نے آبنائے ہرمز کا دورہ بھی کیا تھا۔ ان کے مطابق اس مجوزہ قانون کے مطابق دیگر ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم انھیں ’سروس، حفاظت، ماحولیاتی تحفظ اور جہازوں کی رہنمائی‘ کے لیے فیس ادا کرنا ہوگی۔

    نیکزاد کے مطابق دنیا بھر میں اس فیس کی ادائیگی عام سی بات ہے۔ انھوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی صورتحال میں اب واپس نہیں آئے گی۔

  5. جرمنی کا ایران سے آبنائے ہرمز کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کرنے کا مطالبہ

    جرمن وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایران سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری پروگرام ترک کا مطالبہ کیا ہے۔

    یہ بات جرمن وزیرِ خارجہ یوہانس واڈے فُل نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہی۔

    واڈے فُل کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کو ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولے اور اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرے۔

    جرمن وزیرِ خارجہ کا اپنے ایکس اکاؤنٹ سے جاری ایک پیغام میں کہنا ہے کہ بات چیت کے دوران میں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جرمنی مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل کی حمایت کرتا ہے۔

    بیان میں ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کا قریبی اتحادی کے ناطے ہمارے مقاصد مشترکہ ہیں: ایران کو اپنے جوہری ہتھیاروں کے منصوبے کو مکمل اور قابلِ تصدیق انداز میں ترک کرنا ہو گا اور فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولنا ہو گا۔

  6. 1991 کی خلیجی جنگ کے بعد پہلی مرتبہ کویت کی ماہانہ تیل برآمدات صفر بیرل رہیں: رپورٹ

    کویت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا میں سمندر کے ذریعے تیل کی ترسیل پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’ٹینکر ٹریکرز‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ اپریل کے مہینے میں کویت کی خام تیل کی برآمدات صفر رہیں۔

    ٹینکر ٹریکرز کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 1991 کی خلیجی جنگ کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب کویت نے پورے مہینے خام تیل برآمد نہیں کیا۔

    بی بی سی عربی کے مطابق کویت پٹرولیم کارپوریشن کی جانب سے اس حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا تاہم ٹینکر ٹریکر کا کہنا ہے کہ گذشتہ مہینے کے دوران کویت کی تیل برآمدات ’صفر بیرل‘ رہیں۔

    ٹینکر ٹریکرز کا کہنا ہے کہ کویت میں تیل کی پیداوار جاری ہے جس کا کچھ حصہ ذخیرہ کیا جا رہا ہے جبکہ ریفائنڈ پڑوڈکٹ میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس کی کچھ مقدار برآمد بھی کی گئی ہے۔ ’تاہم ہماری معلومات کے مطابق خام تیل اب تک کویت سے باہر نہیں بھیجا گیا۔‘

  7. مذاکرات میں تسلسل کے لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی: پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر

    ٹرمپ، مقدم

    ،تصویر کا ذریعہBloomberg via Getty Images/EPA

    پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر رضا امیری مقدم کا کہنا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے تسلسل لیے امریکہ کو اپنے رویے میں تبدیلی لانی ہو گی۔

    اتوار کو اسلام آباد میں ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ایک جامع منصوبہ اور اپنا موقف واضح انداز میں پیش کیا ہے۔

    تاہم ایرانی سفارتکار کا کہنا تھا کہ کسی بھی پیش رفت کا انحصار امریکہ کی سنجیدگی اور مسائل کو حقیقی سفارتی کوششوں کے ذریعے حل کرنے کی آمادگی پر ہے۔

    رضا امیری نے تصدیق کی کہ ایران نے اپنی تازہ تجویز پاکستان کے ساتھ شیئر کی ہے جو تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری مذاکرات میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ تجویز بعد میں امریکی فریق تک پہنچا دی گئی ہے۔

    بطور ثالث اسلام آباد کی کوششوں کو سراہتے ہوئے ایرانی سفیر کا کہنا تھا کہ ثالثی کا عمل اب بھی جاری ہے۔

    انھوں نے امریکی رویے کو غیر متوقع اور جارحانہ قرار دیتے ہوئے اس کا موازنہ ایران کی شفاف سفارتی پالیسی سے کیا۔

    امیری مقدم کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان قفقاز اور وسطی ایشیا کے ممالک کے ساتھ تجارت میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ایرانی راستہ ایک موزوں انتخاب ہے۔

    ان کے مطابق اس حوالے سے دونوں ممالک کے سرحدی راستے دوطرفہ تجارت اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

  8. سیستان بلوچستان میں پاسدارانِ انقلاب کے قافلے پر حملے میں راسک شہر کے کمانڈر زخمی

    پاسدارانِ انقلاب

    ،تصویر کا ذریعہNurPhoto via Getty Images

    ،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو

    ایران کے صوبے سیستان بلوچستان کی صورتِ حال پر نظر رکھنے والی انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ضلع راسک میں مسلح افراد کی جانب سے فوجی گاڑیوں کے ایک قافلے پر حملے کے نتیجے میں پاسدارانِ انقلاب کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق زخمی ہونے والوں میں محمود باغبانی بھی شامل ہیں۔ محمود باغبانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ شہر راسک میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر ہیں۔

    بلوچستان ہیومن رائٹس ڈاکیومنٹیشن نیٹ ورک کا کہنا ہے کہ اس حملے میں دیگر اہلکار بھی زخمی ہوئے ہیں۔

    ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے قریب سمجھی جانے والی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق آج علی الصبح مسلح افراد نے صوبہ سیستان بلوچستان کے جنوبی سرحدی شہر راسک میں ’پاسدارانِ انقلاب کی ایک گاڑی‘ پر حملہ کیا۔

    تسنیم کے مطابق مسلح افراد کو پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ’مزاحمت‘ کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بعد وہ ’موقع سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔‘

    تاحال کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

    حالیہ ہفتوں میں سیستان بلوچستان میں جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    ایک ہفتے سے بھی کم عرصہ قبل، بدھ کے روز سیستان پولیس انفارمیشن سینٹر نے بتایا تھا کہ زاہدان میں سکیورٹی فورسز پر مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک اور کم از کم دو دیگر زخمی ہو گئے۔ اسی دوران ایک اور واقعے میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک گشتی دستے کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

  9. ایران نے 2022 کے احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکار کے قتل کے جرم میں سزا یافتہ شخص کو پھانسی دے دی

    ایرانi عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق 2022 میں ایران میں مظاہروں کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار کے قتل میں ملوث مجرم کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

    اتوار کے روز میزان کی جانب سے شائع رپورٹ میں کہا گیا ایران کی سپریم کورٹ نے 2025 کے اواخر میں مجرم کی سزائے موت کو برقرار رکھا تھا جس کے بعد اسے پھانسی دے دی گئی۔

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ملزم کی شناخت مہربان عبداللہ زادہ کے نام سے کی گئی ہے جنھیں 2022 میں ہونے والے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکار عباس فاطمیہ کی موت کے ذمہ دار افراد میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔ یہ احتجاج پولیس تحویل میں نوجوان خاتون مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئے تھے۔

    میزان کے مطابق ملزم نے سکیورٹی اہلکار پر حملے کا اعتراف کیا تھا۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیم ہرانا (ہیومنر رائٹس ایکٹوسٹ اِن ایران) نے ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ عبداللہ زادہ سے زبردستی اعترافِ جرم کروانے کے لیے ان پر تشدد کیا گیا تھا۔

  10. ٹرمپ کو ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا: پاسداران انقلاب

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہLightRocket via Getty Images

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلیجنس یونٹ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق تنظیم کی جانب سے جاری ایک بیان میں حالیہ پیشرفت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ کے لیے فیصلے لینے کے مواقع کم ہیں۔ یونٹ کا کہنا ہے کہ تہران نے امریکی فوج کو ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے ڈیڈلائن مقرر کر دی ہے۔ تاہم اس ڈیڈلائن کی کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چین، روس اور یورپ کی جانب سے واشنگٹن کے خلاف لہجے میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کو ’ناممکن فوجی آپریشن یا خراب معاہدے‘ میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘

    دوسری جانب ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکہ نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔

    ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔

    تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

  11. مارکو روبیو رواں ہفتے ویٹیکن کا دورہ کریں گے، اطالوی اخبارات

    مارکو روبیو پوپ لیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو رواں ہفتے ویٹیکن اور اٹلی کا دورہ کریں گے۔ روبیو کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب چند ہفتے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سوشل میڈیا پر پوپ لیو پر تنقید کرنے کے باعث سیاسی حلقوں کے مختلف دھڑوں سے تعلق رکھنے والے مسیحیوں کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

    بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کا کہنا ہے کہ اٹلی کے دو اخبارات لا ریپبلکا اور کوریئرے ڈیلا سیرا میں شائع ہونے والی خبروں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا مارکو روبیو کی پوپ لیو سے براہِ راست ملاقات ہو گی یا نہیں۔ تاہم ان اخبارات کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ ویٹیکن کے اعلیٰ سفارتی عہدیدار کارڈینل پیئٹرو پیرولین سے ملاقات متوقع ہے۔

    مارکو روبیو کی پوپ لیو سے آخری ملاقات مئی 2025 میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے ہمراہ ہوئی تھی۔ دونوں امریکی عہدیداروں نے سینٹ پیٹر اسکوائر میں نئے پوپ کی افتتاحی عبادت میں شرکت کی تھی اور اگلے روز پوپ سے ایک نجی ملاقات بھی کی تھی۔

  12. پاکستان کے مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی, تنویر ملک، صحافی

    پاکستان کے مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق رواں مالی سال کے دوران 17 اپریل تک مقامی بانڈز میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں 94 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق یکم جولائی 2025 سے اپریل کے وسط تک ٹریژری بلز میں 97 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی آمد ہوئی، جبکہ 91 کروڑ 70 لاکھ ڈالر کا انخلا ہوا جس کے نتیجے میں خالص سرمایہ کاری 5 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہی۔

    اس دوران مارچ کے مہینے میں پاکستان کے مقامی بانڈز سے غیر ملکی سرمایہ کاری کا زیادہ اخراج ریکارڈ کیا گیا۔

    سٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق ٹریژری بلز سے سب سے زیادہ 29 کروڑ 10 لاکھ ڈالر برطانیہ کو منتقل ہوئے، اس کے بعد 27 کروڑ 10 لاکھ ڈالر متحدہ عرب امارات گئے۔

    اس کے علاوہ 21 کروڑ 80 لاکھ ڈالر بحرین اور سات کروڑ 70 لاکھ ڈالر سنگاپور کو منتقل ہوئے، جبکہ تین کروڑ 20 لاکھ ڈالر امریکہ گئے۔

  13. اسرائیل نے امریکہ سے جدید ایف-35 اور ایف-15 آئی اے طیاروں کے دو سکواڈرن خریدنے کی منظوری دے دی

    ایف-35

    ،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images

    بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق اسرائیل نے امریکی کمپنیوں لاک ہیڈ مارٹن اور بوئنگ سے ایف-35 اور ایف-15 آئی اے طیاروں کے دو نئے جنگی سکواڈرن خریدنے کے منصوبے کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

    اسرائیلی وزارتِ دفاع کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اس سودے کی مالیت دسیوں ارب شیکل ہے۔

    اسرائیلی ویب سائٹ دی ٹائمز آف اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے خریداری نے گذشتہ ہفتے کے آخر میں وزارتِ دفاع کے اس منصوبے کی منظوری دی ہے جس کے تحت لاک ہیڈ مارٹن سے ایف-35 آئی کا چوتھا سکواڈرن اور بوئنگ سے ایف-15 آئی اے کا دوسرا سکواڈرن حاصل کیا جائے گا۔

    ٹائمز آف اسرائیل کی خبر کے مطابق ان طیاروں کی شمولیت کے بعد آنے والے برسوں میں اسرائیلی فضائیہ کے پاس ایف-35 آئی طیاروں کی مجموعی تعداد 100 تک پہنچ جائے گی جبکہ ایف-15 آئی اے — جو جدید ایف-15 ای ایکس کا اسرائیلی ماڈل ہے — کی تعداد 50 ہو جائے گی۔

  14. ایران اور فرانس کے وزرا خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے فرانسیسی ہم منصب کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جارحانہ جنگ کے خاتمے کے لیے تہران کے مؤقف اور اقدامات سے آگاہ کیا ہے۔

    ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق اس ٹیلی فونک گفتگو کے دوران عباس عراقچی اور فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں نویل بارو نے خطے اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلۂ خیال کیا۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق عباس عراقچی نے اس موقع پر اپنے فرانسیسی ہم منصب کو ایران کے ان مؤقف اور سفارتی اقدامات سے آگاہ کیا جن کا مقصد امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی جانب سے مسلط کی گئی جنگ کا خاتمہ ہے۔

    فرانسیسی وزیر خارجہ نے سفارتی کوششوں کے تسلسل کے لیے اپنے ملک کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کا جاری رہنا خطے میں پائیدار امن اور سلامتی کا سبب بنے گا۔

  15. خطے سے امریکی فوج کا انخلا، ناکہ بندی کا خاتمہ اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سمیت 14 نکات امریکہ بھجوا دیے ہیں: ایرانی میڈیا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران نے پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکہ کی نو نکاتی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف واشنگٹن کو پہنچا دیا ہے، جس میں بنیادی زور ’جنگ کے خاتمے‘ کے نکتے پر دیا گیا ہے۔

    ایران کی جانب سے امریکہ تک پہنچائی جانے والی تجاویز کے حوالے سے چند تفصیلات سامنے آرہی ہیں۔ ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کی جنگ کے حوالے سے نو نکات پر مشتمل تجاویز کے جواب میں ایران نے 14 نکاتی تجاویز بھیجی ہیں۔

    خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ’امریکہ نے اپنے تجویز میں دو ماہ کی جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا، تاہم ایران نے واضح کیا کہ تمام معاملات 30 دن کے اندر حل ہونے چاہییں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے ’جنگ کے خاتمے‘ پر مرکوز ہونی چاہیے۔

    ایران کی جانب سے واشنگٹن پہنچائی جانے والی 14 نکاتی تجویز میں دوبارہ حملے سے دور رہنے کی ضمانت، ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجیوں کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی، جنگ کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے ہرجانے کی ادائیگی، ایران پر ہر قسم کی پابندیوں کا خاتمہ، لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کا اختتام اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نیا طریقۂ کار جیسے امور شامل ہیں۔

    تسنیم کے مطابق ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران ان تجاویز پر امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔

    تاہم اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا ٹرتھ سوشل پر جاری اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ ’وہ ایران کی جانب سے پیش کردہ منصوبے کا جلد جائزہ لیں گے،‘ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’وہ اسے قابلِ قبول نہیں سمجھتے۔‘

  16. اسرائیل کا جنوبی لبنان کے متعدد شہروں میں کارروائی کے آغاز کا اعلان، علاقہ مکینوں کو گھر خالی کرنے کا حکم

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسرائیل نے لبنان میں ایک اور نئی فوجی کارروائی کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے مُلک کے جنوب میں متعدد شہروں اور دیہات کے رہائشیوں سے اپنے گھروں کو خالی کرنے کی اپیل کی ہے۔

    اتوار کے روز اسرائیلی فوج نے ایک ’انتباہ‘ جاری کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے 11 شہروں اور قصبوں کے مکینوں سے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات کی جانب منتقل ہو جائیں۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزی کے بعد اس کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔

    فوج نے خبردار کیا ہے کہ جو افراد حزب اللہ کے ٹھکانوں یا فورسز کے قریب موجود ہوں گے، انھیں خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

    اسرائیل بدستور جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی افواج اس وقت جنوبی لبنان کے ایک تنگ علاقے پر قابض ہیں اور ان گھروں کو منہدم کر رہی ہیں جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے اہم ٹھکانوں اور تنصیبات کے طور پر استعمال ہو رہے ہیں۔

    دوسری جانب حزب اللہ بھی ڈرون اور راکٹ حملوں کے ذریعے لبنان کے اندر اور شمالی اسرائیل میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنا رہی ہے۔

  17. آبنائے ہرمز سے باحفاظت گزرنے کے لیے ایران سے عالمی سطح پر رابطوں میں اضافہ: فارس نیوز

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے سلسلے میں ایران سے رابطوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً نصف رہ گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے نے ایرانی وزارتِ خارجہ کے معاون برائے اقتصادی سفارتکاری حمید قنبری کے حوالے سے بتایا کہ متعدد ممالک اپنے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کے لیے ایران سے بار بار رابطے کر رہے ہیں تاکہ تہران کی منظوری حاصل کی جا سکے۔

    حمید قنبری کے مطابق مختلف ممالک تشویش اور فوری نوعیت کے پیغامات اور سفارتی مراسلوں کے ذریعے اپنی جہازرانی کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت طلب کر رہے ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جاپان کے وزیرِ اعظم اس سے قبل ذاتی طور پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ کر چکے ہیں، جس میں جاپانی تیل بردار جہازوں کی آبنائے ہرمز سے محفوظ انداز میں گزرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی تھی۔

    فارس نیوز کے مطابق جاری کشیدگی کے تناظر میں رواں ماہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت گزشتہ ماہ کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کم ہو چکی ہے اور اس وقت صرف وہی جہاز گزرنے کی اجازت رکھتے ہیں جنھیں ایران کی جانب سے اجازت نامہ حاصل ہو اور جو ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے متعین کردہ راستوں پر سفر کریں۔

  18. جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کے حملے، سات افراد ہلاک متعدد زخمی

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم سات افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے ہیں، اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہوئے ہیں کہ جب علاقے میں جنگ بندی بدستور برقرار ہے۔

    رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں عمارتوں کو مسمار کرنے کا عمل بھی جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں سرحدی گاؤں یارون میں واقع ایک کیتھولک خانقاہ بھی شامل ہے جسے حال ہی میں بلڈوزر کے ذریعے منہدم کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حزب اللہ اس مقام کو اسرائیل کی جانب راکٹ داغے جانے کے مرکز کے طور پر استعمال کر رہی تھی، تاہم لبنان کی کیتھولک کلیسا نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے۔

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  19. ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے متعلق امریکی صدر کا بیان براہِ راست اور سنگین اعتراف جرم ہے: ایرانی دفترِ خارجہ

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشنایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جس میں انھوں نے گزشتہ روز کہا تھا کہ ’امریکی بحریہ ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے نفاذ کے لیے ’بحری قزاقوں کی طرح‘ عمل کر رہی ہے۔‘ کہ جواب میں ایرانی دفترِ خارجہ کا ردِ عمل سامنے آیا ہے۔

    ایرانی دفترِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کے صدر نے ایرانی بحری جہازوں کی غیرقانونی ضبطی کو کھلے عام ’قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے فخر سے کہا کہ ’ہم قزاقوں کی طرح عمل کرتے ہیں۔‘

    اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’امریکی صدر کے اس بیان کو محض زبانی لغزش نہیں بلکہ بین الاقوامی بحری قوانین کے خلاف امریکی اقدامات کی مجرمانہ نوعیت کا براہِ راست اور سنگین اعتراف قرار دیا جا رہا ہے۔‘

    اسماعیل بقائی نے اپنے اس حالیہ بیان میں زور دیا کہ ’عالمی برادری، اقوام متحدہ کے رکن ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو بین الاقوامی قانون کی ایسی کھلی اور سنگین خلاف ورزیوں کو کسی بھی صورت معمول کا حصہ بننے سے روکنا چاہیے اور انھیں دوٹوک انداز میں مسترد کرنا چاہیے۔‘

    تاہم دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اساتزہ کے عالمی دن کے حوالے سے جاری ایک بیان میں کہا کہ ’اگر آج ہم وطن کے دفاع کے محاذ پر ایسی مناظر دیکھ رہے ہیں جنھوں نے دنیا کو حیران کر دیا ہے تو اس کا سہرا اُن اساتذہ کو جاتا ہے جنھوں نے ہمارے بچوں کو ایمان، قربانی، انسانیت اور ایران سے محبت کے سبق دیا ہے۔‘

  20. یمن کے ساحل کے قریب سے تیل بردار بحری جہاز اغوا

    Getty Images

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بی بی سی سے بات کرنے والے متعدد صومالی سکیورٹی حکام کے مطابق صومالی قزاقوں نے یمن کے ساحل کے قریب ایک تیل بردار جہاز کو اغوا کر لیا ہے۔

    یمن کی کوسٹ گارڈ کا کہنا ہے کہ ’ایم ٹی ایوریقا‘ نامی تیل بردار بحری جہاز کو ہائی جیک کرنے کے بعد صومالیہ کی جانب لے جایا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق جہاز کو خلیجِ عدن میں بندرگاہ قنا کے قریب قزاقوں نے اپنے قبضے میں لیا۔

    بی بی سی سے گفتگو کرنے والے نیم خودمختار علاقے پنٹ لینڈ کے تین سکیورٹی حکام کے مطابق قزاق ایک دور دراز ساحلی علاقے، قندالہ نامی قصبے کے قریب سے روانہ ہوئے، جو خلیجِ عدن کے کنارے واقع ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران علاقے میں تیل بردار جہاز کے ساتھ پیش آنے والی یہ دوسری واردات ہے۔ اس سے قبل 22 اپریل کو صومالی قزاقوں نے ’آنر 25‘ نامی ٹینکر کو اغوا کیا تھا، جو 18 ہزار 500 بیرل تیل موغادیشو لے جا رہا تھا۔

    سکیورٹی حکام کے مطابق ایم ٹی ایوریقا اغوا سے قبل مغربی افریقی ملک ٹوگو کا پرچم لیے ہوئے تھا۔ جہاز کو مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے مسلح افراد نے اپنے قبضے میں لیا۔

    اطلاعات کے مطابق یہ جہاز اس وقت یمن اور صومالیہ کے درمیان خلیجِ عدن میں سفر کر رہا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں میں صومالی پانیوں میں لنگر انداز ہو جائے گا۔

    دوسری جانب جمعے کے روز برطانیہ کی میری ٹائم ٹرانسپورٹ آپریشن نے ایک علیحدہ واقعے میں اطلاع دی کہ یمن کے شہر المکلا کے قریب ایک مال بردار جہاز کے قریب ایک کشتی میں سوار ’مسلح افراد‘ دیکھے گئے۔

    تاہم ابھی تک صومالی حکام اور صومالی پانیوں میں قزاقی کے خلاف کارروائیوں کی نگرانی کرنے والی یورپی یونین نیول فورس کی جانب سے تازہ ہائی جیکنگ کے واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔