عمران خان کا چیف جسٹس سے ’جوڈیشل کمپلیکس میں قتل کی سازش‘ پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ

سابق وزیر اعظم عمران خان نے چیف جسٹس کو لکھے خط میں ’قتل کی سازش، بربریت اور ریاستی دہشتگردی‘ کے واقعات کی جامع تحقیقات کی استدعا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ہر عدالتی پیشی پر میں اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہوں۔‘

لائیو کوریج

  1. ’عمران خان کے گھر کی رسائی کی اجازت دی جائے‘ آئی جی پنجاب کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست

    آئی جی پنجاب

    آئی جی پنجاب عثمان انور نے لاہور ہائی کورٹ میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے گھر کی رسائی کے لیے درخواست دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پولیس کے سینیئر افسران کو بلا رکاوٹ جائے وقوعہ اور ’درخواست گزار کے گھر‘ کی رسائی دی جائے۔

    اس درخواست میں پنجاب پولیس کا مؤقف ہے کہ زمان پارک میں ’کالعدم تنظیموں کے لوگوں کی موجودگی کا امکان ہے‘ جبکہ ڈی آئی جی سمیت درجنوں پولیس جوان زخمی کیے گئے اور گھر تک رسائی کے بغیر تفتیش مکمل نہیں ہوگی۔

    خیال رہے کہ نگران وزیر اطلاعات عامر میر نے گذشتہ روز اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ سابق وزیر اعلیٰ کے پی نے کالعدم تنظیم کے لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کیا تھا اور کالعدم تنظیم کے لوگ زمان پارک میں موجود ہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ

    ادھر سابق وزیر اعظم عمران خان نے نو مقدمات میں عبوری ضمانت کی درخواست دائر کی ہے اور رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ ’عبوری ضمانت کے لیے عمران خان ہائی کورٹ آنا چاہتے ہیں۔‘

  2. تحریک انصاف کا ’پنجاب انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد اتفاق‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    رہنما تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ’کل پنجاب انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد معاملات کے حل پر اتفاق ہوا ہے، آج لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس طارق شیخ صاحب کی عدالت میں متفقہ حل دے دیں گے۔‘

  3. پنجاب بھر کے انتخابات کے لیے کل 7566 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے: الیکشن کمیشن

    الیکشن کمیشن نے صوبہ پنجاب میں انتخابات میں حصہ لینے والوں کے خواہش مند امیدواروں کے کاغذات نامزدگی کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے اعلامیہ کے مطابق 30 اپریل کو ہونے والے پنجاب بھر کے انتخابات کے لیے کل 7 ہزار پانچ سو 66 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں خواتین کی مخصوص نشتوں کے لیے 623 کاغذات نامزدگی موصول ہوئے جبکہ اقلیتوں کی مخصوص نشستوں کے لیے 170 امیدواروں نے کاغزات نامزدگی جمع کروائے ہیں۔

    اکیکشن کمیشن کے مطابق ان کاغذات نامزدگی پر جانچ پڑتال 22 مراچ تک مکمل ہو گی۔ امیدواروں کی حتمی فہرست چار اپریل کو جاری ہو گی جس کے بعد چھ اپریل کو امیداروں کو انتخابی نشان الاٹ کیے جائیں گے۔

    الیکشن کمیشن نے پنجاب بھر کے 36 اضلاع کے لئے انتخابی شیڈول کا اعلان آٹھ مارچ کو کیا تھا۔

  4. ’پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے، کل خود عدالت پیش ہو جاؤں گا‘، عمران خان کی اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    سابق وزیر اعظم عمران خان نے ملک بھر میں اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات جاننے اور پولیس کو گرفتاری سے روکنے کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔

    عمران خان کی وکلا ٹیم کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’پی ڈی ایم حکومت کے آتے ہی ملک بھر میں روزانہ مقدمات درج ہو رہے ہیں، وزیر آباد میں قاتلانہ حملہ ہوا، جان کو شدید خطرات ہیں۔‘

    ’پورے ملک میں درج مقدمات کا ریکارڈ دیں، پولیس کو عدالت کی اجازت کے بغیر گرفتاری سے روک دیں۔‘

    اس درخواست میں سیکریٹری داخلہ، چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس اور ڈی جی ایف آئی اے کو فریق بنایا گیا ہے۔

    اس کے ساتھ ہی عمران خان کی جانب سے توشہ خانہ کیس میں وارنٹ منسوخی کی درخواست مسترد ہونے کا فیصلہ بھی اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔

    اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’انڈر ٹیکنگ تسلیم کر کے پولیس کو گرفتاری سے روکا جائے۔ کل اسلام آباد کی سیشن کورٹ میں خود پیش ہو جاؤں گا۔‘

    خیال رہے کہ گذشتہ روز سیشن عدالت نے گذشتہ روز عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست خارج کی تھی۔

    رجسٹرار آفس کے اعتراضات

    ان دونوں درخواستوں پر رجسٹرار آفس نے اعتراضات عائد کیے ہیں کہ عمران خان کا بائیو میٹرک نہیں ہے۔ ’جس معاملے پر پہلے ہائیکورٹ فیصلہ کر چکی دوبارہ کیسے سن سکتی ہے۔ کسی درخواست پر کیسے بلیکنٹ آرڈر جاری کیا جا سکتا ہے؟‘

  5. دفاعی ضرورت یا فوجی طاقت بننے کی خواہش: انڈیا اتنے ہتھیار کیوں خرید رہا ہے؟

  6. عمران خان کا خوف

  7. عمران خان کو گرفتار نہیں بلکہ عدالت میں پیشی کے لیے مجبور کرنا چاہتے ہیں: رانا ثنا اللہ

    رانا ثنا اللہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ حکومت کی ترجیح سابق وزیر اعظم کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ انھیں عدالت میں پیشی کے لیے مجبور کرنا ہے۔

    انھوں نے گذشتہ شب جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری ترجیح عمران خان کو گرفتار کرنا نہیں بلکہ انھیں مجبور کرنا ہے کہ وہ عدالت میں پیش ہوں۔

    ’اگر گرفتار کیا تو بھی عدالت میں ہی پیش کرنا ہے۔ عدالت فرد جرم کے بعد انھیں رہا کر دے گی۔ ہم نے شروع سے حکمت عملی اپنائی کہ انھیں اس حد تک مجبور کریں کہ وہ عدالت میں پیش ہوں۔ اب ہر طرف سے دباؤ آ رہا ہے اور ہمیں یقین ہے یہ 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہوگا۔‘

    ’عمران خان کے خلاف آپریشن پولیس اور نگران حکومت نے کیا، آرمی چیف نے نہیں‘

    اینکر شاہزیب خانزادہ نے ان سے پوچھا کہ کیا عمران خان کی یہ بات درست ہے کہ موجودہ آرمی چیف اس آپریشن کے پیچھے ہیں اور ’میرے ورکرز نے اس پر مزاحمت دکھائی۔‘

    رانا ثنا اللہ نے جواب دیا کہ ’ان کا یہ کہنا بالکل غلط ہے۔‘

    ’اگر ایسی بات ہوتی تو یہ ایکشن کسی اور طرح سے ہوتا اور رینجرز فرنٹ فٹ پر ہوتے۔ رینجرز کو بڑی مشکل سے آمادہ کیا گیا کہ وہ پولیس کو دروازے تک جانے میں مدد دیں۔ یہ سارا کام پولیس اور نگران حکومت نے کیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’عدالت میں کیس چلے گا، وہ ثابت ہوا تو سزا ہوگی نہ ثابت ہوا تو بری ہوجائے گا۔ اس میں اسٹیبلشمنٹ نے کیا کرنا ہے اور ہم نے کیا استعمال ہونا ہے۔‘

    ’ہم نے نگران حکومت سے مشاورت کی لیکن وہ وفاقی حکومت کے ماتحت نہیں۔ وہ ایک آزاد حکومت ہے۔‘

    رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’اس کا کوئی پتا نہیں کل کہے اس میں امریکہ بھی ملوث ہے۔‘

  8. شہباز شریف: ’جوہری اور میزائل پروگرام کے بارے میں گمراہ کن قیاس آرائیاں افسوسناک ہیں‘

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام کے بارے میں گمراہ کن قیاس آرائیاں افسوسناک ہیں۔

    اپنی ٹویٹ میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کا جوہری اور میزائل پروگرام مکمل طور پر محفوظ، فول پروف اور کسی بھی دباؤ کے بغیر ہے۔

    شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ ہمارا جوہری پروگرام قوم کے غیر متزلزل اتفاق کی نمائندگی کرتا ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  9. پاکستان کی ترقی، مفادات اور جمہوریت کے لیے کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہوں: عمران خان

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جمعرات کی شام جہاں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف انھیں جیل میں دیکھنا چاہتے ہیں وہیں اس سے کچھ دیر قبل ایک ٹویٹ میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ جمہوریت کے لیے وہ کسی سے بھی بات کرنے کو تیار ہیں اور ملک کے مفادات اور ترقی کے لیے ہر قدم اٹھائیں گے۔

    تاہم عمران خان نے واضح نہیں کیا کہ آیا اسے ان کے شریف برادران یا آصف زرداری جیسے اپنے سیاسی حریفوں سے بات نہ کرنے کے موقف میں تبدیلی سمجھا جائے یا نہیں۔

    چند دن قبل بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بھی عمران خان نے کہا تھا کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے تو بات کرنے کو تیار ہیں لیکن شریف برادران اور آصف زرداری سے بات نہیں کریں گے جنھیں وہ ملکی خزانہ لوٹنے کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. بریکنگ, گرفتار کرکے میرے ساتھ وہ کرنا تھا جو اعظم سواتی اور شہباز گِل کے ساتھ کیا: عمران خان

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ ’ملک کی سب بڑی پارٹی کے سربراہ کو فوج پکڑنے آ جاتی ہے۔ ‘

    ’جب میں نے کہہ دیا کہ میں 18 کو آ رہا ہوں۔ یہ بدنیت تھے۔ یہ مجھے جیل لے جانا چاہتے ہیں۔ جو لندن میں بیٹھا ہوا ہے وہ کہتا ہے اس کوجیل میں ڈالو میں تب آؤں گا۔‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’مجھے پتا تھا کہ میں نے 18 کو عدات میں جانا ہے تو 15 کو پولیس بہنچ جاتی ہے۔ عدالت نے بھی ان سے پوچھا تین دن ان کے ساتھ کیا کرنا تھا۔‘

    عمران خان نے کہا ’مجھے پتا تھا جو کرنا تھا۔۔۔ جو اعظم سواتی اور شہباز گِل کے ساتھ کیا۔ ‘

    لاہور میں پارٹی کارکنان سے خطاب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے گھر پر ایسے حملہ ہوا جیسے میں دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہوں۔ پچاس سال سے لوگ مجھے جانتے ہیں۔ ‘

    ’پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ عوام پیسہ مجھے دیتی ہے۔ تین ہسپتال اور دو یونیورسٹیاں خیراتی بنائیں‘۔

    عمران خان نے لاہور میں پی ٹی آئی کارکن کی ہلاک کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’انھوں نے اس درویش ظلِ شاہ کے ساتھ جو کیا۔ ان کو خدا کا خوف نہیں۔ سوائے پیار کے اس کی زندگی میں کچھ نہیں تھا۔ اس پر کتنا تشدد کیا۔ ‘

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ’یہ ڈرے ہوئے ہیں کہ کہیں الیکشن نہ ہو جائے عمران خان اقتدار میں نہ آجائے۔ ‘

    انھوں نے کہا ’جب مجھے پتا چلا کہ اتنی فورس لے کر وہ یہاں آ گئے ہیں۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے صدر کو یقین دہانی دی۔ وہ گئے اور لاہور ہائی کورٹ سے جا کر کہا کہ وہ عدالت پہنچ جائیں گے۔ انھیں آئی جی نہیں ملا۔ اس سے ہم سجھ گئے کہ ان کی نیت ٹھیک نہیں۔ ‘

    تحریکِ انصاف کے سربراہ کا لہنا تھا کہ ’مجھے جیل میں ڈالنے کی کوشش لندن پلان کا حصہ ہے۔ نواز شریف کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ عمران خان کو جیل میں ڈالیں گے۔ ‘

    ’الزام ثابت کریں سیاست چھوڑ دوں گا‘

    انھوں نے بتایا کہ ان پر مزید کیسز کیے ہیں ’مجھ پر اب 85 کیسز ہو گئے ہیں۔ عنقریب سنچری ہو جائے گی۔‘

    عمران خان کا کارکنوں سے خطاب کہنا تھا کہ ’میں نے کبھی اس ملک کا قانون نہیں توڑا۔ ایک کیس ثابت کریں میں سیاست چھوڑ دوں گا۔ ‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’ان کا مقصد ہے کہ عمران خان کو جیل میں ڈال کر الیکشن کروا دو۔ عمران خان جیل میں ہوگا تو کسی طرح چوروں کو جتوا دو۔‘

    ’انتخابات میں ٹکٹ خود دوں گا‘

    انھوں نِے آئندہ انتخابات میں اپنی پارٹی کی جانب سے لائحہ عمل کے بارے میں بتایا کہ اس مرتبہ ان کی جماعت کے نمائندوں کا انتخاب وہ خود کریں گے۔

    ان کا کہنا تھا ’اس سے پہلے ٹکٹ کوئی اور دیتا تھا 2018 میں غلط ٹکٹ دیے گئے۔ پیسے بھی لیے گئے۔ اس بار میں خود ٹکٹ دوں گا۔ جہاں شک ہو گا میں خود انٹرویو کروں گا۔ میرٹ پر ٹکٹ دوں گا۔ ‘

    انھوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا ’جن کو ٹکٹ نہ ملیں وہ ناراض نہ ہوں۔ اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ ملک کے نازک دور میں ملک کو نقصان نہ پہنچائیں۔ جو فیصلہ بھی ہو پارٹی کا حصہ رہنا ہے۔ یہ گارنٹی دیتا ہوں کہ پارٹی آپ کو نہیں بھولے گی‘۔

  11. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار

    عمران خان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اسلام آباد کی سیشن عدالت میں توشہ خانہ کیس میں پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کیے جانے سے متعلق درخواست خارج کر دی گئی ہے۔

    درخواست مسترد کیے جانے کے بعد عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری برقرار رہیں گے۔

    عدالت نے عمران خان کو 18 مارچ کو سیشن عدالت پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  12. پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر محفوظ ہے: حکومت پاکستان

    حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر محفوظ ہے۔

    وزیر اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا کہا گیا ہے کہ پاکستان کے جوہری اور میزائل پروگرام کے حوالے سے سوشل اور پرنٹ میڈیا میں گردش کرنے والے حالیہ تمام بیانات، پریس ریلیزز، سوالات اور مختلف دعوے غلط ہیں۔

    بیان کے مطابق پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کے حوالے سےڈی جی آئی اے ای اے رافیل ماریانو گروسی کے معمول کے دورے کے کو منفی رنگ دیا جا رہا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ واضح کیا جاتا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی اور میزائل پروگرام ایک قومی اثاثہ ہے ریاست پاکستان ہر طرح سے اس پروگرام کی حفاظت کی ذمہ دارہے۔‘

    بیان کے مطابق ’یہ پروگرام مکمل طور پر محفوظ، فول پروف اور کسی بھی دباؤ سے ماورا اور آزاد ہے۔‘

    بیان مںی واضح کیا گیا کہ پاکستان کا ایٹی پروگرام ’اس مقصد کو ہر طرح سے پورا کرتا ہے جس کے لیے یہ صلاحیت تیار کی گئی تھی‘۔

  13. عمران خان کے خلاف متعدد مقدمات کے بیچ وہ مقدمہ جو حالات کو اس نہج تک پہنچانے کا باعث بنا

  14. خاتون جج کو دھمکی کیس میں عمران خان کے وارنٹ 20 مارچ تک معطل

    پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان کی جانب سےخاتون جج کو دھمکی کیس میں عمران خان کے وارنٹ 20 مارچ تک معطل کیے گئے ہیں۔

    ورانٹ گرفتاری کی منسوخی کی درخواست پر سماعت کے دوران ایڈیشنل سیشن جج فیضان حیدرگیلانی کی عدالت میں پراسیکوٹر رضوان عباسی پیش ہوئے۔

    وارنٹ منسوخی کی درخواست اور وکالت نامہ پر دستخط پر اعتراض اٹھایااور کہا کہ عدالت بے شک نادرا سے کراس چیک کروا لے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مسلسل عدم حاضری پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، عمراان خان اے ٹی سی،بینکنگ کورٹ اور ہائیکورٹ میں پیش ہوئے لیکن مقامی عدالت پیش نہیں ہوئے۔‘

    انھوں نے کہا عمران خان کی جانب سے طبی بنیادوں پر متعدد بار استثنی لیا گیا، عمران خان عدالتوں میں پیشی کے بجائے ریلی کو لیڈ کرتے رہے۔ وزیر آباد واقعے کے بعد راولپنڈی ریلی کو بھی عمران خان کی جانب سے لیڈ کیا گیا۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا ’وارنٹ صرف ایک صورت میں منسوخ ہوتا ہے جب ملزم عدالت میں پیش ہو، اس کے علاؤہ اور کوئی آپشن موجود نہیں۔‘

    انھوں نے کہا ’قانون کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ عدالت سے استدعا ہے درخواست کو مسترد کیا جائے‘

    تاہم عدالت نے عمران خان کے ورانٹ 20 مارچ تک معطل کرتے ہوئے انھیں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

  15. بریکنگ, توشہ خانہ کیس: عمران خان کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کی معطلی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل کے بعد عمران خان کے وکیل خواجہ حارث نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ وہ عمران خان یہ یقین دہانی کروانا چاہ رہے ہیں کہ وہ 18 مارچ کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

    خواجہ حارث کا کہنا تھا کہ اگر وارنٹ گرفتاری قابلِ ضمانت وارنٹ میں تبدیل کر دیے جائیں تو وہ ابھی یہ ’شیورٹی‘ دینے کو تیار ہیں۔

    ان دلائل کے بعد سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے وارنٹ گرفتاری معطل کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

  16. توشہ خانہ کیس:وکیل الیکشن کمیشن نے عمران خان کی وارنٹ منسوخی کی درخواست کی مخالفت کردی

    الیکشن کمیشن کے وکیل سعدحسن نے عدالت کو بتایا کہ 28 فروری سے وارنٹ جاری ہوئے، دو بار وارنٹ کو بحال کیا گیا۔

    انھوں نے اپنے دلائل میں کہا کہ ’ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری بلکل قانون کے مطابق ہیں۔‘ عمران خان نے متعدد بار انڈرٹیکنگ دی کہ عدالت کے سامنے پیش ہوں گے۔

    سعد حسن کے مطابق جنوری سے اب تک حاضری سے استثنیٰ کی درخواتیں موصول ہوئی ہیں۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل نے کہا کہ ’بطور شکایت کنندہ کا وکیل میں نے عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواتوں پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔‘

    وکیل کے مطابق وارنٹ منسوخی کی بات تو بلکل ہی مزاح خیز ہے۔

    ان کے مطابق جب تک ملزم عدالت پیش نہیں ہوتا تب تک نا قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری منسوخ کیے جا ہی نہیں سکتے۔

    سعد حسن نے عدالت کو بتایا کہ جو درخواست یہاں آئی ہے یہ اس سے پہلے تین دفعہ آچکی ہے۔

    ان کے مطابق بڑی عجلت میں درخواست دی گئی کہ آج ہی فیصلہ ہو جائے۔

    وکیل الیکشن کمیشن نے کہا کہ ’ملزم یہاں پر نہیں آئے لیکن لاہور میں ریلی نکالی گئی ہے۔‘

    گذشتہ وارنٹ پر پولیس عمران خان کے گھر زمان پارک گئے۔پی ٹی آئی کے کسی سینیٹر نے وارنٹ کا نوٹس لیا۔ ان کے مطابق کہ اسلام آباد اور پنجاب پولیس کو وارنٹ کی تکمیل کرتے ہوئے نقصان برداشت کرنا پڑا۔

    وکیل کے مطابق ایسے تو کوئی ایم پی اے بھی دو تین ہزار کارکنان باہر نکال کر اشتعال پیدا کرسکتا ہے۔

    الیکشن کمیشن کے وکیل کے مطابق کسی ملزم کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اس کی منسوخی کی درخواست کا کبھی سنا ہی نہیں۔

    وکیل نے سوال اٹھایا کہ ’توشہ خانہ میں فردجرم عائد ہونی ہے، عمران خان کیوں نہیں پیش ہورہے۔‘

    ان کے مطابق عمران خان توشہ خانہ کیس میں بار بار ریلیف مانگ رہے ہیں۔

  17. ’پولیس پر پیٹرول بم اور پتھر پھینکے گئے، تشدد کیا گیا‘, فرحت جاوید بی بی سی اردو اسلام آباد

    توشہ خانہ

    اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال کی عدالت میں آئی جی اسلام اباد اکبر ناصر خان الیکشن کمیشن کے وکیل سعد حسن بھی موجود ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر نے کہا ہے کہ ’اسلام آباد پولیس کے کسی نمائندے کو عمران خان سے ملنے نہیں دیا گیا۔‘

    انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز بھی عمران خان کی عدالت پیشی کی یقین دہانی کروائی گئی۔ پولیس سے کسی نے زمان پارک میں بات نہیں کی۔

    اسلام آباد پولیس پر پیٹرول بم اور پتھر پھینکے گئے، پولیس اہلکاروں پر تشدد ہوا جو وارنٹ کی تکمیل کے لیے گئے تھے۔

    پولیس اہلکار نہتے تھے، کوئی اسلحہ ان کے پاس موجود نہیں تھا۔

    میں پولیس اہلکاروں کی فیملی کو کیا جواب دوں، جن کے بیٹوں پر لاہور میں ظلم ہوا؟ ماضی میں گھروں سے عدالت لے کر آنا پولیس کے لیے معمول کی بات ہے۔

    اگر ایک شخص کو رعایت ملتی ہے تو دیگر کو بھی ملنی چاہیے۔ آئین کے سامنے تمام افراد یکساں ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ وہ وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے فیصلہ عدالت پر چھوڑتے ہیں۔ عدالت نے آئی جی اسلام اباد سے سوال کیا کہ املاک کو کتنا نقصان ہوا ہے جس پر ان کا کہنا تھا کہ پولیس کی واٹر کینن جلائی گئی جبکہ 65 پولیس والے زخمی بھی ہوئے ہیں۔

    آئی جی اسلام آباد اکبر ناصر خان نے کہا کہ عدالت پر وارنٹ گرفتاری کے حوالے سے فیصلہ چھوڑتاہوں۔ جج نے آئی جی سے استفسار کیا کہ املاک کو کتنا نقصان ہوا ہے؟ اکبر ناصر نے بتایا کہ پولیس کی واٹر کینن جلائی گئی، 65 پولیس والے زخمی ہوئے۔

  18. سیاسی اور قانونی پہلوؤں پر غور کرنے تحریک انصاف کی سینیئر قیادت زمان پارک پہنچ گئی

    آئندہ سیاسی اور قانونی لائحہ عمل تحریک انصاف کی سئنر لیڈر شپ زمان پارک پہنچ گئی ہے۔ تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمر سمیت پارٹی کے سینیئر رہنما زمان پارک پہنچ گئے ہیں۔

    عمران خان سے پارٹی کی سینیئر لیڈر شپ کی ملاقات عدالتی کیسز، مینار پاکستان جلسہ اور سیاسی معاملات زیر بحث آئیں گے۔

    ملاقات میں مینار پاکستان کے جلسے کی تاریخ میں تبدیلی کے حوالے سے بھی مشاورت ہو گی۔

    اسد عمر کے مطابق پنجاب کے ٹکٹ کے اُمیدواروں کو بھی آج انٹرویوز کے لیے بلایا گیا ہے۔

  19. ’پاکستان میں سیاسی بحران جتنا بڑھے گا، بدامنی اور انتشار میں اتنا ہی اضافہ ہو گا‘

  20. بریکنگ, پولیس کے زمان پارک میں آپریشن پر پابندی میں کل تک توسیع

    لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زمان پارک رہائش گاہ میں پولیس آپریشن پر پابندی میں کل تک توسیع کر دی ہے۔

    لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کی درخواست پر سماعت کے بعد یہ تحریری فیصلہ جاری کیا ہے، جس میں پولیس کو زمان پارک میں عمران خان کی گرفتاری کے لیے آپریشن پر پابندی میں مزید ایک دن کے لیے توسیع کر دی ہے۔

    Lahore

    ،تصویر کا ذریعہLHC