آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کندھے سے داغے جانے والے ایرانی میزائل کتنے خطرناک ہیں؟
- مصنف, رضا ثابتی
- عہدہ, بی بی سی فارسی کے لیے
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 12 منٹ
تہران کی جانب سے چین سے بیلسٹک میزائل خریدنے کی کوشش کا ذکر حال ہی میں خبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک رپورٹ میں کیا گیا۔ رپورٹ میں ایران کے فضائی دفاع کے اس حصے پر توجہ مرکوز کی گئی جسے ایس 300 جیسے بڑے نظام کے مقابلے میں کم توجہ ملتی ہے۔
یہ ایک ہلکا، قابلِ نقل و حمل اور نسبتاً کم قیمت ہتھیار ہے جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کو نشانہ بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
روئٹرز کی رپورٹ میں نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ذرائع نے بتایا کہ ایران نے چینی ساختہ کیو ڈبلیو 12 اور ایف این 16 لانچر سمیت فضائی دفاعی نظام کو مضبوط کرنے والے 300 سے 400 ہتھیاروں کے لیے 60 سے 70 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ پہلی کھیپ چند ہفتوں میں پاکستان کے راستے ایران پہنچائی جا سکتی ہے۔
بیجنگ نے اس رپورٹ کو ’مکمل طور پر بے بنیاد‘ قرار دیا جبکہ پاکستان کی فوج نے اسلحے کی منتقلی میں اپنے کردار سے متعلق الزامات کو ’من گھڑت اور جھوٹا‘ کہا۔
تاہم یہ پہلا موقع نہیں جب ان ہلکے ہتھیاروں کے حصول کے لیے ایران کی کوششیں توجہ کا مرکز بنی ہوں۔
فروری 2026 میں فنانشل ٹائمز نے رپورٹ کیا تھا کہ ایران نے روس سے وربا 500 لانچر اور 2500 میزائل خریدنے کے لیے 495 ملین یورو کا ایک خفیہ معاہدہ کیا ہے۔
اخبار کے مطابق یہ معاہدہ دسمبر 2025 میں دونوں جنگوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ اگرچہ سرکاری ذرائع نے اس کی تصدیق نہیں کی تاہم اس خبر کو ایرانی میڈیا میں وسیع کوریج ملی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جون 2026 میں امریکی محکمہ خزانہ نے ان افراد اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کیں جن کے بارے میں واشنگٹن کا کہنا تھا کہ انھوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی وزارتِ دفاع کے لیے چین سے اسلحہ خریدنے میں سہولت فراہم کی۔
وزارت کا کہنا تھا کہ منسلک نیٹ ورکس ایسے ہتھیار خریدنے کی کوشش کر رہے تھے جن میں ’قابلِ نقل و حمل فضائی دفاعی نظام‘ یا ’کندھے سے داغے جانے والے میزائل‘ شامل تھے۔
ایران کی جانب سے ان نظاموں کے حصول کی کوششوں کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے۔
سمال آرمز ایسسمنٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے 2024 کی ایک رپورٹ میں ماہرین کے اعداد و شمار کے حوالے سے لکھا کہ ایران نے 1990 کی دہائی میں چین سے کیو ڈبلیو 1 اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں کیو ڈبلیو 18 میزائل درآمد کیے تھے۔ بعد میں ان نظاموں کو مقامی طور پر ’میثاق-1‘ اور ’مِیثاق-2‘ کے نام دیے گئے۔
ایران ’مِیثاق‘ ہتھیاروں کو مقامی مصنوعات کے طور پر پیش کرتا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ اس کے کون سے حصے ایران میں بنے اور کون سے پرزے بیرونِ ملک سے درآمد کیے گئے۔
مین پیڈز کیا ہیں اور جنگ میں ان کا کیا کردار ہے؟
مین پیڈ دراصل ’مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس‘ کا مخفف ہے۔
ہر نظام عموماً ایک لانچ ٹیوب میں موجود راکٹ، فائرنگ گن، بیٹری یونٹ اور کولر پر مشتمل ہوتا ہے۔
ان میں سے بیشتر میزائل حرارتی تلاش کرنے والے نظام سے لیس ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ طیارے کے انجن اور دیگر حصوں سے خارج ہونے والی حرارت کو شناخت کرتے ہیں، اس پر لاک کرتے ہیں اور فائر کیے جانے کے بعد اس کا تعاقب کرتے ہیں۔
ان قابلِ نقل و حمل نظاموں یا کندھے سے داغے جانے والے میزائلوں کے استعمال کے لیے بڑے ریڈار یا خصوصی گاڑی کی ضرورت نہیں ہوتی۔
ایک چھوٹی ٹیم ہوائی اڈوں، فضائی راستوں، بلندیوں یا حساس تنصیبات کے قریب تعینات ہو سکتی ہے اور فائر کرنے کے بعد فوری طور پر مقام چھوڑ سکتی ہے۔
برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ انسٹیٹیوٹ میں فضائی طاقت کے سینیئر محقق جسٹن برونک نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ نئے چینی مین پیڈز امریکی اور اسرائیلی ہیلی کاپٹروں کی کارروائیوں اور ممکنہ طور پر کم بلندی پر پرواز کرنے والے لڑاکا طیاروں کے لیے خطرات میں ’نمایاں‘ اضافہ کر سکتے ہیں۔
ان کے مطابق پرانے ماڈلز کے مقابلے میں یہ نظام حرارتی فریب اور حقیقی طیارے میں بہتر فرق کر سکتے ہیں۔ تاہم ان کا بنیادی خطرہ ان طیاروں کے لیے ہے جو تقریباً 15 ہزار فٹ (4500 میٹر) سے کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔
ان نظاموں کا چھوٹا حجم، قابلِ نقل و حمل ہونا اور انھیں تیزی سے منتقل کرنے کی صلاحیت ان کی تلاش اور انھیں ناکارہ بنانا مشکل بنا دیتی ہے۔
تاہم مین پیڈز فضائی دفاع کی صرف انتہائی قلیل فاصلے کی سطح کا احاطہ کرتا ہے اور درمیانی اور طویل فاصلے کے نظاموں کا متبادل نہیں ہے۔
ایرانی وزارتِ دفاع کے ایکسپورٹ سینٹر کے مطابق مِیثاق-1 اور مِیثاق-2 میزائلوں کی زیادہ سے زیادہ رینج 3500 میٹر کی بلندی ہے۔
واشنگٹن انسٹیٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں سینئر فیلو اور ایران کی فوجی صلاحیتوں کے ماہر فرزین ندیمی نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ یہ نظام طویل فاصلے کے دفاعی نظاموں کے مقابلے میں ’محدود صلاحیت‘ رکھتے ہیں۔ لیکن یہ ایران کے کم بلندی والے دفاعی خلا کو جزوی طور پر پُر کر سکتے ہیں، خصوصاً ہیلی کاپٹروں، ڈرونز اور ٹرانسپورٹ طیاروں کو ہدف بنانے کے لیے جو اڑان بھر رہے ہوں یا لینڈ کر رہے ہوں۔
تاہم یہ نظام تمام اہداف کے خلاف یکساں موثر نہیں ہیں۔
مثال کے طور پر بڑے ڈرون، جن میں کمبسچن انجن استعمال ہوتے ہیں، زیادہ حرارت خارج کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ کم بلندی پر پرواز کر رہے ہوں۔ حرارت تلاش کرنے والے میزائلوں کے لیے انھیں نشانہ بنانا آسان ہو سکتا ہے۔
لیکن بجلی سے چلنے والے مائیکرو ڈرون، جو بہت کم حرارت پیدا کرتے ہیں، کو تلاش کرنا اور نشانہ بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
کندھے سے داغے جانے والے ہتھیاروں کی کئی اقسام ہیں اور صرف کندھے سے فائر ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب ایک جیسے کام کرتے ہیں۔
مثال کے طور پر آر پی جی سیون ایران میں عراق کے ساتھ جنگ کے حوالے سے خاصا معروف ہے۔ یہ بنیادی طور پر بکتر بند گاڑیوں اور زمینی اہداف پر حملے کے لیے استعمال ہوتا ہے مگر مین پیڈز کے زمرے میں نہیں آتا۔
ایرانی ’میثاق‘ جو چینی ہتھیاروں سے ملتا جلتا ہے
ایران کے کندھے سے داغے جانے والے میزائلوں کی درست تعداد اور ساخت کے بارے میں کوئی مصدقہ معلومات موجود نہیں۔
مختلف ذرائع نے سوویت اور چینی ساخت کے پرانے ماڈلز کی موجودگی کا ذکر کیا ہے۔ لیکن ایرانی ’مِیثاق‘ ہتھیار اور کسی حد تک ’سہند‘ کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات موجود ہے۔
ایسٹریلا ٹو اور اس کا جدید ورژن سوویت ساختہ میزائل ہیں جنھیں نیٹو اتحاد ایس اے سیون کہتا ہے اور جو ایس اے ایم سیون کے نام سے معروف ہیں۔
انسٹیٹیوٹ فار دی ایویلیوایشن آف سمال آرمز کی رپورٹ ’سہند‘ میزائل لانچر کو انھی ہتھیاروں کے ایرانی ورژن کے طور پر پیش کرتی ہے۔
اسی رپورٹ کے مطابق ایران نے 1990 کی دہائی میں کیو ڈبلیو 1 اور 2000 کی دہائی کے آغاز میں کیو ڈبلیو 18 میزائل چین سے درآمد کیے اور بعد ازاں ان سے متعلق نمونوں کو مقامی سطح پر ’جوڑا‘ گیا جنھیں بعد میں مِیثاق-1 اور مِیثاق-2 کے نام دیے گئے۔
ایرانی وزارتِ دفاع کا ایکسپورٹ سینٹر مِیثاق-1 کو ’کم بلندی کے لیے استعمال ہونے والا دوسری نسل کا فضائی دفاعی ہتھیار‘ قرار دیتا ہے جس میں ہدف کے تعاقب کے لیے ’پیسیو انفراریڈ نظام‘ موجود ہے، یعنی میزائل ریڈار لہریں خارج کیے بغیر ہدف کی حرارتی شعاعوں کو شناخت کر کے ان کا تعاقب کرتا ہے۔
سینٹر کی ویب سائٹ کے مطابق مِیثاق-1 کو ’تیز رفتار اور کم بلندی والے فضائی اہداف‘ کے ساتھ ساتھ ہیلی کاپٹروں اور ’کم رفتار فضائی اہداف‘ کے خلاف استعمال کے لیے بنایا گیا ہے۔ اسے زمینی افواج اور اہم تنصیبات کے دفاع کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
کندھے سے فائر کرنے کے علاوہ سینٹر کا یہ بھی کہنا ہے کہ مِیثاق-1 نظام کو ’پلیٹ فارم پر نصب‘ بھی کیا جا سکتا ہے۔
مِیثاق-2 میزائل تیسری نسل کا فضائی دفاعی نظام ہے جو ’بنیادی اہداف سے موصول ہونے والی انفراریڈ لہروں اور جعلی لہروں میں فرق‘ کر سکتا ہے اور اس پر ’نائٹ وژن کیمرے‘ بھی نصب کیے جا سکتے ہیں۔
مِیثاق نظاموں کو ایرانی ساختہ قرار دینے کے باوجود ان کی مقامی پیداوار کے بارے میں شکوک موجود ہیں۔
انسٹیٹیوٹ فار دی ایویلیوایشن آف سمال آرمز کے سینیئر محقق میٹ شروڈر نے بی بی سی فارسی کو بتایا کہ ’ابتدائی اندازہ یہ تھا کہ ایران لائسنس کے تحت کیو ڈبلیو ون اور کیو ڈبلیو 18 تیار کر رہا تھا۔‘ لیکن مِیثاق کے نام سے پیش کیے گئے ہتھیار، حتیٰ کہ پیداواری تنصیبات کی تصاویر کے جائزے سے معلوم ہوا کہ ’تمام خصوصیات اور نشانیاں چینی ہتھیاروں سے یکساں تھیں۔‘
ان کے مطابق یہ ایران میں لائسنس یا ریورس انجینیئرنگ کے تحت تیار ہونے والے دیگر ہتھیاروں کی نشاندہی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔
اسی لیے محققین نے اندازہ لگایا کہ ایران ’انھیں ابتدا سے تیار نہیں کرتا‘ بلکہ ’پرزے درآمد کر کے مقامی طور پر جوڑتا ہے اور دعویٰ کرتا ہے کہ یہ ایک مختلف نظام ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ چند برس بعد امریکی کانگریس میں ایک سماعت کے دوران ایک امریکی عہدیدار کے بیانات نے بھی اس جائزے کی تصدیق کی۔
میٹ شروڈر اس وقت کی امریکی محکمہ خارجہ کی عہدیدار پیٹریشیا میکنیرنی کے 2008 کے بیان کا حوالہ دے رہے تھے جنھوں نے مِیثاق-1 کو ’چینی اجزا کے ساتھ ایک چینی لانچ نظام کا ایرانی ورژن‘ قرار دیا تھا۔
’مِیثاق-3‘ کے بارے میں مزید ابہام موجود ہے۔
میٹ شروڈر کے مطابق سابقہ ماڈلز میں نظر آنے والا طرز مِیثاق-3 میں تبدیل ہو گیا کیونکہ ’اس کے بیرونی اجزا پچھلے ماڈلز سے بہت ملتے جلتے ہیں۔ لیکن خود راکٹ مختلف ہے۔ اس لیے امکان ہے کہ ایران نے میزائل کی ری انجینیئرنگ کی ہو۔
’ہمیں نہیں معلوم کہ اس کا مطلب زیادہ صلاحیت ہے یا نہیں۔‘
میدان جنگ میں ’مِیثاق 3‘ کا استعمال
سرکاری ایرانی رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مِیثاق میزائل ماضی میں متعدد فوجی اور پاسدارانِ انقلاب کی مشقوں میں استعمال ہو چکے ہیں۔
لیکن مِیثاق میزائلوں کے جنگی استعمال سے متعلق سب سے نمایاں دعوؤں میں سے ایک حالیہ جنگ کے دوران اصفہان کے دشتِ مہیار میں امریکی آپریشن سے متعلق ہے۔
یہ واقعہ 3 اپریل 2026 کو ایران میں مار گرائے گئے ایف 15 ای لڑاکا طیارے کے دو عملے کے ارکان کو نکالنے کے لیے کیے گئے امریکی آپریشن کا حصہ تھا۔
اس آپریشن کے لیے امریکی افواج نے دشتِ مہیار اصفہان میں ایک ویران بنکر استعمال کیا۔
بعد میں ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمینیا نے دعویٰ کیا کہ بری فوج کے دفاعی کالج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مسعود زارع نے کندھے سے داغے جانے والے میزائل سے فائر کر کے ایک امریکی ایم سی 130 طیارے کو مار گرایا تھا۔
فارس نیوز ایجنسی نے میزائل کی قسم ’مِیثاق-3‘ بتائی لیکن اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ مسعود زارع اور ان کے متعدد ساتھی اس وقت امریکی فضائی حملے میں مارے گئے جب وہ دوسری بار فائرنگ کی تیاری کر رہے تھے۔
تاہم امریکی ذرائع نے روئٹرز کو ایک مختلف بیان میں بتایا کہ دو ایم سی 130 طیارے فنی خرابی کے باعث زمین پر رہ گئے تھے اور امریکی افواج نے حساس آلات ایران کے ہاتھ لگنے سے روکنے کے لیے ان دونوں طیاروں اور مزید چار ہیلی کاپٹروں کو تباہ کر دیا تھا۔
آپریشن دشتِ مہیار اسی ایف 15 ای لڑاکا طیارے کے دو اہلکاروں کو بچانے کے لیے کیا گیا تھا جس کے بارے میں بعد میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اسے ایران سے داغے گئے میزائل نے نشانہ بنایا تھا۔
میٹ شروڈر نے کہا کہ ’یہ ممکن ہے کہ (ایک مین پیڈ) نے ایف 15 ای لڑاکا طیارے کو مار گرایا ہو، ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے اور دوبارہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ حالات کا رخ تبدیل نہیں کرتا۔‘
’ہم جن نظاموں کی بات کر رہے ہیں وہ ٹیکنالوجی میں کوئی بڑی جدت نہیں بلکہ اس صلاحیت میں بہتری ہیں جو ایران کے پاس پہلے ہی موجود ہے۔‘
بی بی سی فارسی سے گفتگو میں انھوں نے اس صورتحال کا موازنہ افغانستان میں سٹنگر میزائل کی آمد سے کیا جس کے خلاف سوویت افواج کے پاس ابتدا میں مؤثر دفاع موجود نہیں تھا اور انھیں اپنی پرواز کی حکمتِ عملی تبدیل کرنا پڑی تھی۔
تاہم محقق کے مطابق یہ نظام امریکی طیاروں کے خلاف ایران کی صلاحیت کو فیصلہ کن طور پر تبدیل نہیں کریں گے۔
کیا ایران ان ہتھیاروں کو برآمد بھی کر رہا ہے؟
میٹ شروڈر کے مطابق ایران کے ذخیرۂ اسلحہ میں اضافے سے زیادہ اہم بات یہ امکان ہے کہ نئے کندھے سے داغے جانے والے میزائل تہران سے منسلک مسلح گروہوں تک منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
لانچر چھوٹے اور قابلِ نقل و حمل ہوتے ہیں اور ان کے بنیادی اجزا، جن میں میزائل، لانچر، گن اور بیٹریاں شامل ہیں، الگ الگ منتقل کیے جا سکتے ہیں۔
یہ خصوصیت ان کی سمگلنگ اور چھپانے کو آسان اور منتقلی کے راستوں کا سراغ لگانے کو مشکل بنا دیتی ہے۔
انسٹیٹیوٹ فار دی ایویلیوایشن آف سمال آرمز کی 2024 کی رپورٹ، چین سے ایران کی درآمدات کی تاریخ، وصول کنندگان کے تہران سے روابط اور پرزوں پر کندہ نشانات اور نمبروں کی مماثلت کی بنیاد پر ایران کو خطے کے مسلح گروہوں تک کیو ڈبلیو میزائل منتقل کرنے کی سب سے ممکنہ کڑی قرار دیتی ہے۔
سب سے اہم مثالوں میں سے ایک جہان جہاز کا سامان تھا جسے یمنی حکام نے جنوری 2013 میں ضبط کیا تھا۔
یہ جہاز یمن کے ساحل کی جانب جا رہا تھا اور اس کا سامان حوثیوں کے لیے تھا۔
اس کھیپ میں میزائل، لانچ ٹیوبز سمیت مین پیڈز کے 67 حصے برآمد ہوئے۔
اقوامِ متحدہ کی 2013 اور 2015 کی رپورٹس اور انسٹیٹیوٹ فار ریسرچ آن ویپنز ایٹ وار کی 2018 کی ایک تحقیق نے جہان جہاز کے اس کارگو کا سب سے ممکنہ ذریعہ ایران کو قرار دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین کے پینل کے ارکان کے درمیان ایران سے نسبت کے بارے میں یقین کی سطح پر اختلاف تھا۔
پانچ ارکان نے اسے اس وقت ایران کی جانب سے اسلحہ پابندیوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا جبکہ دیگر تین نے اسے ’ممکنہ خلاف ورزی‘ کہا۔
تاہم جہاز کے لوکیٹرز میں ریکارڈ شدہ راستے، عملے کے بیانات، ہتھیاروں کی نوعیت اور ان کی پیکنگ کا جائزہ ایران کو سب سے ممکنہ ذریعہ ظاہر کرتا ہے۔
میٹ شروڈر نے اس سامان کی ضبطی کو مین پیڈز کی ایران سے منتقلی کا ’شاید سب سے ٹھوس ثبوت‘ قرار دیا اور کہا کہ متعدد اداروں کی تحقیقات نے اس کے ایران سے تعلقات ظاہر کیے ہیں۔
پانچ سال بعد غزہ میں ایک اور سراغ سامنے آیا۔
قسام بریگیڈز نے کیو ڈبلیو 18 طرز کے نظاموں سے تعلق رکھنے والی تین ایس کے 18 گنز کی نمائش کی جو پرانی ایسٹریلا ٹو ٹیوبز کے ساتھ منسلک تھیں۔
کم از کم دو گنز پیداوار کی تاریخ اور کھیپ کے نمبروں کے لحاظ سے جہان جہاز میں ملنے والے نمونے سے یکساں تھیں اور ان کے سیریل نمبروں میں صرف 9 اور 10 کا فرق تھا۔
انسٹیٹیوٹ فار دی ایویلیوایشن آف سمال آرمز کے مطابق یہ اجزا غالباً براہِ راست یا ثالثوں کے ذریعے ایران سے غزہ بھیجے گئے تھے۔
کیو ڈبلیو 1 اور کیو ڈبلیو 18 کی مثالیں عراق کی کتائب حزب اللہ، یمن کے حوثیوں اور لبنان کی حزب اللہ کے پاس بھی دیکھی گئی ہیں۔
حزب اللہ کی 2023 کی مشق میں کم از کم 10 متحرک فضائی دفاعی ہتھیار دکھائے گئے تھے۔
میٹ شروڈر کا کہنا ہے کہ اگر ایران کو سیکڑوں نئے مین پیڈز منتقل کیے جانے سے متعلق روئٹرز کی حالیہ رپورٹ درست ثابت ہوتی ہے تو تہران کی جانب سے اپنے اتحادیوں کو اسلحہ فراہم کرنے کی سابقہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ ایسے ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور شہری طیاروں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
ان کے مطابق 2007 کے بعد سے مین پیڈز کے ذریعے کسی شہری طیارے کو کامیابی سے مار گرانے کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ یہ ایسی کامیابی ہے جو ان کے بقول حکومتوں کے باہمی تعاون، برآمدات پر کنٹرول، محفوظ ذخیرہ اندوزی اور ان نظاموں کی دوبارہ تعیناتی روکنے کی کوششوں کا نتیجہ تھی۔